بیوی میں یہ نشانی ہوتو اسے فوراً طلاق دے دو

بیوی میں یہ نشانی ہوتو اسے فوراً طلاق دے دو

میاں بیوی کا رشتہ اللہ تعالیٰ نے کیا خوب بنایا ہے۔ مضبوط اتنا کہ فولاد سے بھی زیادہ اور کمزور اتنا جیسے مکڑی کا جالا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر خوبیاں پیدا کیں ہیں۔ اسی طرح انسانوں کے اندر خامیاں بھی ہیں۔ جس گھر کے اندر عورت نیک اور سمجھدار ہوگی۔ اس گھر کی زندگی سکھی ہوگی۔ جنت نظیر ہوگی۔ اور جس گھرمیں عورت نیک اور سمجھدار نہیں ہوگی۔ تو اس گھر کا سکون برباد ہوجائےگا۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اس بندھن میں بندھنےسےپہلے لڑکے والوں کو بھی اور لڑکی والوں کو بھی اچھی طرح سے چھان بین کرلینی چاہیے ۔ تاکہ بعد میں ناچاقی اور طلاق کی نوبت نہ آئے۔ کیونکہ طلاق ایک نا پسندید ہ عمل ہے۔ آج آپ کو بیوی کے چند ایسی نشانیوں کے بارے میں بتانے جارہےہیں۔ تو اگر یہ نشانیاں موجود ہوں ۔ تو گھر جہنم کی مثل ہوجاتاہے۔

نہ صرف شوہر کا جینا دوبھر ہوجاتا ہے۔ بلکہ پورے گھر والوں کا جینا ح رام ہوجاتا ہے۔ اسی لیے ایسی بیوی کے لیے بہتر ہے۔ کہ اسے طلاق دے کر جتنا جلدی ہوسکے اس سے جان چھڑا لی جائے۔ عورت میں پائی جانے والی وہ نشانیاں کیا ہیں؟ یاد رہے طلاق کا عمل اللہ کے ہاں جائز ہونے کے باوجود ناپسندیدہ ہے۔ اس لیے اس سے بچنے کےلیے چاہیے کہ شادی سے پہلے کو شش کی جائے کہ ایسی لڑکی یا خاتون سے شادی کی جائے ۔ جو نیک اور سمجھدا رہو۔ لیکن اگر شادی کے بعد بھی بیوی کے اندر خاصیتیں کم اور خامیاں زیادہ ہوں۔ تو ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ نے مرد کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ بیوی اپنی زندگی سے نکال دے ۔ اور اپنی راہ اس سے جدا کرلے۔ یہ راستہ طلاق کا راستہ ہے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ کسی کے ماتھے پر نہیں لکھا ہوتا ہے کہ اس کا رویہ کیسا ہوگا؟

اس لیے آپ کی شادی ہوچکی ہے۔ اور شادی کے بعد آپ کی بیوی کے رویے میں ایسی خامیاں سامنے آئیں۔ جو برداشت کے قابل نہ ہوں۔ تو اس میں بہتر حل طلاق ہی ہے۔ وہ کونسی نشانیا ں ہیں ۔ جو بیوی میں پائی جائیں۔تو بیوی کو طلا ق دے دینی چاہیے۔ یا در ہے ! کہ شوہر کو اہمیت نہ دینا جاہل اور ناسمجھ بیوی کی سب سےپہلی اور بڑی نشانی ہے۔ کہ وہ کبھی شوہر کو وہ اہمیت نہیں دیتی جس کا وہ حقدار ہے۔ ایسی بیویاں اکثر شوہر کو محض پیسہ کمانے کی مشین سمجھتی ہیں۔ اور شوہر کے بجائے اس کی آمدنی پر زیادہ توجہ مرکوز رکھتی ہیں۔ شوہر کو بہر صورت بیوی کی ایک مناسب اور بے رس توجہ درکار ہوتی ہے۔جس سے لاپرواہی فاصلو ں کو جنم دے سکتی ہے۔ اسی طرح شوہر کے گھر آمد کو اہمیت نہ دنیا بھی ایک لاپرواہ اور ایک جاہل بیوی کی خاصیت ہوتی ہے۔

ذر اتصو ر کریں۔ کہ شوہر جو اپنےکام سے تھکا ہارا ، بھوکا پیاسا گھر آیا ہے۔ تو اسکی بیوی نے نہ تو اسکی آمد کو اہمیت دی اور نہ اس کے ہاتھوں میں پانی کا ایک گلاس تھمایا۔ اور نہ کھانے کا پوچھا۔ تو وہ شوہر کیسے محسوس کرےگا؟ ایک جاہل بیوی شوہر کی آمد پر ایسے رویے کا مظاہرہ کرتی ہے۔ یاد رہے ! ایک جاہل اور لاپرواہ مزاج کی حا مل بیوی گھر کے ساتھ ساتھ بچوں کے معاملات بے توجہی برتی ہے۔ وہ نہ تو خود زندگی کے درست طور طریقوں کو ہمیت دیتی ہے۔ اور نہ ہی بچوں کا عمل درس دیتی نظرآتی ہے۔ اس ماحول میں پلنے والے بچے کبھی بھی زندگی کے صیحح اقدار سے آگا ہ نہیں ہوپاتے۔ کیونکہ بہرحال ایک بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے۔ بچوں کے معاملے میں اس پر سے کوتاہی میاں بیوی کے درمیان شکوے شکایتوں کی دیوار کھڑی کردیتی ہے۔ ایسی بیوی کی نشانی ہے کہ شوہر کے والدین سے بدتمیز کرتی ہے ۔ان کی عزت نہ کرنا۔ جاہل بیوی ایک بڑی اور اہم نشانی ہے۔ اور رویہ گھر یلو ماحول میں ادم برداشت کے عناصر کو جنم دیتا ہے۔

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *