جو عورتیں ہاتھوں پر مہند ی نہیں لگاتی

جو عورتیں ہاتھوں پر مہند ی نہیں لگاتی

جو عورتیں عید کے موقع پر مہندی لگانے کی شوقین ہیں۔ اور ساتھ ساتھ ان مردوں کے لیے جو عید پر مہندی لگانے کا شوق رکھتے ہیں ۔ عید پر لگانے کیسا ہے؟ اور اس کے بارے میں ہمارے پیارے آقا ﷺ نے کیا ارشادفرمایا ہے؟اب بات کرتے ہیں مہندی کے بار ےمیں۔ سب سے پہلے ہم آپ کوبتادیں عورتوں کے ہاتھوں اور پاؤں میں مہند ی لگانا جائز ہے۔ اگر عورت اپنے شوہر کی زینت کےلیے مہندی لگاتی ہے تو یہ عورت کے لیے جائز ہے۔ لہٰذا عورتوں کے لیے مہند ی لگانا جائز ہے بلکہ جائز نہیں بلکہ ضروری بھی ہے۔ کیونکہ یہ ہاتھوں ااور پاؤں کا پردہ بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ہاتھو ں میں اور پاؤں میں مہندی لگائیں ۔تاکہ عورتوں کے ہاتھ اور پاؤں مرد کی طرح نہ رہیں۔

مہندی پاک و ہند کی خوبصورت روایات کا حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ نبی کریم ﷺ کی سنت بھی ہے تو اس تحریر میں یہی بتارہے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مہندی کے استعمال کا کیا طریقہ بتایا اور سائنس نے اس پر ریسرچ کر کے مہندی کے کون کونسے فوائد ڈھونڈ نکالے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اور تمام پڑھنے والوں کو نبی کریم ﷺ کی سنتوں اور نبی کریم ﷺ کے طریقے پر چلنے کی توفیق دے ۔آمین۔صدیوں سے مہندی کا استعمال کسی نہ کسی شکل و صورت میں ضرور ہوتارہا ہےتاریخی حیثیت سے یہاں تک معلوم ہوا ہے کہ قدیم مصری عورتیں اسے چونے کے ساتھ ملا کر استعمال کرتی تھیں مصر کے فرعون اس کو بہت زیادہ پسند کرتے تھے چنانچہ وہ اسے ہاتھوں پیروں پر لگاتے تھے۔

اور اس سے کپڑوں کو رنگواتے خوشبو کے لئے سلگاتے اور پھر مرنے کے بعد اس کے پتے اپنے مقبروں میں رکھواتے تھے قدیم ہندومذہب اور بت عقائد نے بھی اس کی بہت اہمیت بیان کی ہے چنانچہ ہندو امرا اپنی دلہنوں کے لئے ایسے سونے کے تاج بنواتے جن پر انتہائی سلیقے کے ساتھ مہندی کے پتے ایک حاشیئے کی صورت لگادیئے جاتے تھے۔ اسی طرح یونانیوں کے ہاں بھی مہندی اشیائے مقدسہ میں شامل تھی اب بات کرتے ہیں اسلام اور جدید سائنس کی مہندی کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسالت مآب نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہود و نصاریٰ اپنے بالوں میں مہندی وغیرہ کا رنگ نہیں دیتے۔تم رنگ دے کر ان کی مخالفت کرو حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص جس نے مہندی کا خزاب لگایا ہواتھا

گزرا تو آپﷺ نے فرمایا کہ کتنا اچھا خزاب ہے پھر ایک اور شخص گزرا جس نے مہندی اورکتم سے رنگاہوا تھا۔آپﷺ نے فرمایا یہ پہلے سے بھی زیادہ اچھا ہے پھر ایک اور شخص گزرا جس نے زرد رنگ کا خزاب لگایا ہوا تھا تو فرمایا یہ سب سے اچھا ہے حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن حضرت ابو قحافہ ؓ اس حال میں آپﷺ کی خدمت میں لائے گئے کہ ان کے سر اور داڑھی کے بال ذخامہ گھاس کی طرح سفید تھے تو رسول ﷺ نے فرمایا اس سفیدی کو کسی اور چیز کے ساتھ بدل دو لیکن سیاہ رنگ سے بچو ان احادیث کی روشنی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خزاب لگانا حضور اکرم ﷺ کی سنت ہے لیکن وہ سیاہ رنگ کا نہیں ہونا چاہئے ۔

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *