[X]

یہ عادت چھوڑ دیں ورنہ… 5 غلطیاں جن کی وجہ سے اسمارٹ فون میں آگ لگ سکتی ہے

یہ عادت چھوڑ دیں ورنہ… 5 غلطیاں جن کی وجہ سے اسمارٹ فون میں آگ لگ سکتی ہے
حال ہی میں امریکہ کے ایک ہوائی جہاز میں پرواز کے دوران اسمارٹ فون میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا ہے- اگرچہ اسمارٹ فونز میں آگ لگنے کے امکانات بہت کم ہیں، لیکن اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ ہم اپنے آلات کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ زیادہ تر اسمارٹ فونز میں 4،500mAh اور اس سے اوپر کی طاقتور بیٹریاں موجود ہیں جن میں تیز چارجنگ کی صلاحیت ہے، اسی لیے یہ تجویز کیا جاتی ہے کہ آپ اپنے فون کو احتیاط سے استعمال کریں۔ اس سے قطع نظر کہ آپ کس برانڈ کا اسمارٹ فون استعمال کر رہے ہیں، ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں نئے فونز کی بیٹریاں بغیر کسی انتباہ کے پھٹ گئیں۔ زیادہ تر معاملات میں، اسمارٹ فون برانڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ صارفین کی غلطی ہے۔ اپنے فون کو آگ لگنے سے بچانے کے لیے اپنی 5 غلطیوں پر توجہ دیں
ٹوٹے ہوئے فون کا استعمال
اگر اسمارٹ فون گرنے کی وجہ سے ٹوٹ جائے تو اسے استعمال کرنا فوراً بند کردیں اور کسی سروس سینٹر سے رابطہ کریں- اسمارٹ فون کی باڈی یا ڈسپلے ٹوٹنے کے سبب اس میں پانی داخل ہوسکتا ہے جو کہ بیٹری یا سرکٹ تک پہنچ سکتا ہے- ایسا فون استعمال کرنا انتہائی خطرناک ہوتا ہے-
جعلی یا نقلی چارجر کا استعمال
فاسٹ چارجنگ ایڈاپٹر استعمال کرتے ہوئے احتیاط برتنی چاہیے- ہمیشہ اسمارٹ فون اسی چارجر سے چارج کریں جو اس کے ساتھ کمپنی کی جانب سے فراہم کیا گیا ہے- انتہائی طاقت ور توانائی کا حامل چارجر بیٹری پر دباؤ بڑھا دیتا ہے- اسے کے علاوہ نقلی چارجر بھی استعمال کرنے سے گریز کریں-
گرم ہونے کے دوران اسمارٹ فون کا استعمال
اگر آپ کا اسمارٹ فون غیر معمولی طور پر گرم ہورہا ہو تو اسے استعمال مت کیجیے اور نہ چارجنگ پر لگائیے- اسے رکھ کر تھوڑی دیر کے لیے اس سے دور ہوجائیے- گرمائش کے دوران اسمارٹ فون کا مستقل استعمال نقصان پہنچا سکتا ہے-
اضافی چارج کرنا
موبائل فون کو ساری رات کے لیے چارجنگ پر لگا کر مت چھوڑیے- یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ بیٹری کو 100 فیصد چارج کریں بلکہ بہتر یہ ہے کہ اسے 90 فیصد تک چارج کیا جائے جس سے بیٹری کی زندگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے- فون کو چارجنگ پر لگا کر بھول جانا نہ صرف بیٹری کی زندگی کو مختصر کرتا ہے بلکہ خطرناک بھی ہوتا ہے-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *